مقبوضہ بیت المقدس، 17/ اگست (آئی این ایس انڈیا)اسرائیل کے وزیر انٹیلی جنس نے کہا کہ متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے بعد بحرین اور عمان بھی اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات کو باضابطہ شکل دینے کے لیے اگلے خلیجی ممالک ہو سکتے ہیں۔
خیال رہے کہ دونوں خلیجی ممالک بحرین اور عمان نے متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے مابین معاہدے کی تعریف کی ہے۔
اگرچہ دونوں ممالک نے تاحال اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات کے امکانات پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
خبررساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے گزشتہ دو برس میں عمانی اور سوڈانی رہنماؤں سے ملاقات کی تھی۔
اس سے قبل امریکی سینئر عہدیدار نے کہا تھا کہ وائٹ ہاؤس سے متعدد خلیجی ممالک رابطے میں ہیں تاہم وہ یہ اندازہ لگانے کی کوشش کررہے ہیں کہ آیا مزید معاہدوں پر عمل درآمد ہوگا یا نہیں۔
اسرائیلی عہدیدار نے ان ممالک کا نام لینے سے انکار کردیا لیکن کہا کہ وہ مشرق وسطی اور افریقہ میں عرب اور مسلمان ممالک ہیں۔
خیال رہے کہ اسرائیل اور متحدہ عرب امارات نے اعلان کیا تھا کہ وہ سفارتی تعلقات معمول پر لائیں گے اور وسیع تر تعلقات کو مضبوط کریں گے۔
اسرائیل نے 1979 میں مصر اور 1994 میں اردن کے ساتھ امن معاہدوں پر دستخط کیے تھے لیکن متحدہ عرب امارات سمیت دیگر عرب ممالک کے ساتھ باضابطہ سفارتی یا معاشی تعلقات قائم نہیں ہوئے تھے۔
متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان 'امن معاہدہ' ہوا تھا جس کے تحت دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات بحال ہوجائیں گے۔
معاہدے کے مطابق اسرائیل مقبوضہ مغربی کنارے کے حصوں کے یکطرفہ الحاق کے اپنے منصوے کو مؤخر کردے گا۔
اس معاہدے کے بارے میں امریکی صدر نے اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسرائیلی اور متحدہ عرب امارات کے وفود آئندہ ہفتوں میں سرمایہ کاری، سیاحت، براہ راست پروازوں، سلامتی اور باہمی سفارتخانوں کے قیام سے متعلق دوطرفہ معاہدوں پر دستخط کریں گے۔